Results 1 to 1 of 1
  1. #1
    Senior Member www.desirulez.net
    Join Date
    Nov 2011
    Location
    = Heaven =
    Posts
    145

    T

    Default Laho Ke Aaine May

    Follow us on Social Media







    امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ نے جواب دیا : آج وہ نماز پڑھوں گا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابو لو لو فیروز کا خنجر پڑنے کے بعد پڑھی تھی
    فتنہ خلقِ قرآن کے زمانے میں امام احمدبن حنبل رحمتہ اللہ علیہ قرآن کو غیر مخلوق کہنے کی بنا پر پابجولاں معتصم کے دربار میں حاضر ہوئے تو وہاں اس بات کا اہتمام کیا گیا کہ انہیں دہشت زدہ کرنے کےلئے ان کے سامنے دو تین آدمیوں کے سر قلم کر دیئے جائیں اور جب دربار میں خون کے چھینٹے اڑ رہے تھے امام احمد رحمتہ اللہ علیہ اپنا دامن سنبھال رہے تھے اور اسی مجلس میں بیٹھے امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے ایک شاگرد سے پوچھ رہے تھے کہ تمہارے استاد نے فلاں مسئلے میں کیا رائے قائم کی ہے۔
    درباری دیکھ رہے تھے کہ یہ عجیب آدمی ہے اپنے سامنے تلواریں چمکتے دیکھ رہا ہے لیکن اسے فکر ہے تو اس بات کی فکر ہے کہ ایک مسئلے میں امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے مسلک کی تحقیق ہو جائے۔ اسے اس بات کی پروا نہیں کہ ابھی اس کے ساتھ کیا گزر جائے گی۔ چنانچہ مورخ بیان کرتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ کی پیٹھ پر جو کوڑے پڑے اگر کسی دوسرے ہاتھ کی پشت پر برستے تو وہ بلبلا اٹھتا۔ امام کو شدید تعذیب کا شکار ہونا پڑا مگر اس سے ان کے پائے استقامت میں کوئی لغزش نہ آئی۔ جب ان سے بار بار کہا گیا کہ اپنا موقف تبدیل کر لیجئے تو انہوں نے ایک ہی جواب دیا میرے پاس کوئی بات اللہ کی کتاب یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں سے لے آﺅ میں قبول کر لوں گا اس کے سوا مجھے کسی چیز کی طرف التفات کرنے کی ضرورت نہیں۔
    مار کھانے کے بعد یہ جلیل القدر امام ابنِ سماعہ کے گھر نماز پڑھ رہا تھاتو کہا گیا: کوڑوں سے آپ کے جسم پر جگہ جگہ زخم ہوگئے ہیں اور خون بہہ رہا ہے کیا بہتے خون کے ساتھ نماز ہو جائے گی؟ انہوں نے جواب دیا : آج وہ نماز پڑھوں گا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابو لو لو فیروز کا خنجر پڑنے کے بعد پڑھی تھی۔

 

 

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •