Results 1 to 1 of 1
  1. #1

    Wink : تمہارے ہونے کا شاید سُرا

    Follow us on Social Media







    تمہارے ہونے کا شاید سُراغ پانے لگے
    کنارِ چشم کئی خواب سر اُٹھانے لگے

    پلک جھپکنے میں گزرے کسی فلک سے ہم
    کسی گلی سے گزرتے ہوئے زمانے لگے

    مرا خیال تھا یہ سلسلہ دِیوں تک ہے
    مگر یہ لوگ مرے خواب بھی بُجھانے لگے

    وہ گھر کرے کسی دل میں تو عین ممکن ہے
    ہماری دربدَری بھی کسی ٹھکانے لگے

    میں گُنگُناتے ہوئے جا رہا تھا نام ترا
    شجر حجر بھی مرے ساتھ گُنگُنانےلگے

    دُھواں دھنک ہوا، انگار پھول بنتے گئے
    تمہارے ہاتھ بھی کیا معجزے دکھانے لگے

    ادھر سے گزرے جو اختر کبھی بہار کے ساتھ
    تو پُھول ہم کو تری داستاں سنانے لگے

    اختر رضا سلیمی



 

 

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •