Results 1 to 1 of 1
  1. #1

    Thumbs up لہو سے دل، کبھی چہرے اُجالنے کے لئے

    Follow us on Social Media









    لہو سے دل، کبھی چہرے اُجالنے کے لئے
    میں جی رہا ہوں، اندھیروں کو ٹالنے کے لئے

    اُتر پڑے ہیں پرندوں کے غول ساحل پر
    سفر کا بوجھ، سمندر میں ڈالنے کے لئے

    سخن لباس پہ ٹھہرا تو جوگیوں نے کہا
    کہ آستیں ہے فقط سانپ پالنے کے لئے

    میں سوچتا ہوں کبھی میں بھی کوہکن ہوتا
    تِرے وجود کو پتھر میں ڈھالنے کے لئے

    کسے خبر کہ شبوں کا وجود لازم ہے
    فضا میں چاند، ستارے اُچھالنے کے لئے

    بہا رہی تھی وہ سیلاب میں جہیز اپنا
    بدن کی ڈوبتی کشتی سنبھالنے کے لئے

    وہ ماہتاب صِفت، آئینہ جبیں محسن
    گلے ملِا بھی تو مطلب نکالنے کے لئے

    محسن نقوی



 

 

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •