Results 1 to 1 of 1
  1. #1

    Thumbs up Re: ایک شب اپنے دریچے میں کھڑے تھے جاناں

    Follow us on Social Media








    :d
    ایک شب اپنے دریچے میں کھڑے تھے جاناں
    اور باہر کے اندھیرے سے کوئی دیکھے تو
    اپنے چہرے تھے جو کھڑکی میں جڑے تھے جاناں
    مجھ کو تو معلوم ہے خوں اپنا بس اک دائرہ ہے
    درد کا کھیل فقط لمحہ موجود کا ہے
    پچھلی تاریخ سے آغاز نہیں ہو سکتا
    بھول جاؤں تو کوئی انداز نہیں ہو سکتا
    بھول جاؤں تو کوئی یاد نئی آئے گی
    یہ کوئی حل کوئی انداز نہیں ہو سکتا
    اب بھی آئی ہے بہار آ کے چلی جائے گی
    مجھ کو معلوم ہے خوں اپنا بس اک دائرہ ہے
    اتفاقاً کبھی میں پیدا ہوا تھا جیسے
    جب مری موت بھی آئے گی یونہی آئے گی



 

 

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •