Results 1 to 1 of 1
  1. #1

    Arrow کوئی مہرباں نہیں ساتھ میں، کوئی ہاتھ بھی ن

    Follow us on Social Media









    کوئی مہرباں نہیں ساتھ میں، کوئی ہاتھ بھی نہیں ہات میں
    ہیں اُداسیاں مری منتظر، سبھی راستوں میں، جِہات میں

    ہے خبر مجھے کہ یہ تم نہیں، کسی اجنبی کو بھی کیا پڑی
    سبھی آشنا بھی ہیں رُوبرُو، تو یہ کون ہے، مری گھات میں

    یہ اُداسیوں کا جو رنگ ہے، کوئی ہو نہ ہو مرے سنگ ہے
    مرے شعر میں، مری بات میں، مری عادتوں میں، صفات میں

    کریں اعتبار کسی پہ کیا، کہ یہ شہر، شہرِ نفاق ہے
    جہاں مسکراتے ہیں لب کہیں، وہیں طنز ہے کسی بات میں

    چلو یہ بھی مانا اے ہمنوا! کہ تغیّرات کے ماسِوا
    نہیں مستقل کوئی شے یہاں، تو یہ ہِجر کیوں ہے ثبات میں

    مری دسترس میں بھی کچھ نہیں، نہیں تیرے بس میں بھی کچھ نہیں
    میں اسیرِ کاکلِ عشق ہوں، مجھے کیا ملے گا نجات میں


    محمد احمد



 

 

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •