Results 1 to 1 of 1
  1. #1

    Thumbs up وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ

    Follow us on Social Media









    وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ
    اب تو ہم بات بھی کرتے نہیں غم خوار کے ساتھ

    ہم نے اک عمر بسر کی ہے غم یار کے ساتھ
    میر دو دن نہ جئے ہجر کے آزار کے ساتھ

    اب تو ہم گھر سے نکلتے ہیں تو رکھ دیتے ہیں
    طاق پر عزت سادات بھی دستار کے ساتھ

    اس قدر خوف ہے اب شہر کی گلیوں میں کہ لوگ
    چاپ سنتے ہیں تو لگ جاتے ہیں دیوار کے ساتھ

    ایک تو خواب لیے پھرتے ہو گلیوں گلیوں
    اس پہ تکرار بھی کرتے ہو خریدار کے ساتھ

    شہر کا شہر ہی ناصح ہو تو کیا کیجئے گا
    ورنہ ہم رند تو بھڑ جاتے ہیں دو چار کے ساتھ

    ہم کو اس شہر میں تعمیر کا سودا ہے جہاں
    لوگ معمار کو چن دیتے ہیں دیوار کے ساتھ

    جو شرف ہم کو ملا کوچہ جاناں سے فراز
    سوئے مقتل بھی گئے ہیں اسی پندار کے ساتھ



 

 

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •