Results 1 to 1 of 1
  1. #1
    Senior Member www.desirulez.net
    Join Date
    Nov 2011
    Posts
    145

    T

    Default Hazrat Umar Bin Khatab (R.A)

    Follow us on Social Media









    حضرت ابوحفص عمر بن خطاب قرشی عدوی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان

    تشریح :
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نسب نامہ یہ ہے : عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزیٰ بن رباح بن عبداللہ بن قرط بن زراح بن عدی بن کعب بن لوی بن غالب۔ تو وہ کعب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب سے مل جاتے ہیں، ان کا لقب فاروق تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا۔ بعض نے کہا حضرت جبرئیل علیہ السلام یہ لقب لے کر آئے تھے۔ غرض عدالت اور علم، سیاست مدن اور حسن تدبیر اور انتظام ملکی میں اپنا نظیر نہیں رکھتے تھے، ان کی سیرۃ طیبہ پر دنیا کی بیشتر زبانوں میں مطول اور مختصر کافی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ان کے مناقب سے متعلق یہاں جو کچھ مذکور ہے وہ مشتے نمونہ از خروارے ہے۔


    حدیث نمبر : 3679
    حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا عبد العزيز الماجشون، حدثنا محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله ـ رضى الله عنهما ـ قال قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ رأيتني دخلت الجنة، فإذا أنا بالرميصاء امرأة أبي طلحة وسمعت خشفة، فقلت من هذا فقال هذا بلال‏.‏ ورأيت قصرا بفنائه جارية، فقلت لمن هذا فقال لعمر‏.‏ فأردت أن أدخله فأنظر إليه، فذكرت غيرتك ‏"‏‏.‏ فقال عمر بأمي وأبي يا رسول الله أعليك أغار
    ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز ماجشون نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن منکدر نے بیان کیا ، اور ان سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں ( خواب میں ) جنت میں داخل ہوا تو وہاں میں نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی بیوی رمیصاءکو دیکھا اور میں نے قدموں کی آواز سنی تو میں نے پوچھا یہ کون صاحب ہیں ؟ بتایاگیا کہ یہ بلال رضی اللہ عنہ ہیں اور میں نے ایک محل دیکھا اس کے سامنے ایک عورت تھی ، میں نے پوچھا یہ کس کا محل ہے ؟ تو بتایا کہ یہ عمر رضی اللہ عنہ کا ہے ۔ میرے دل میں آیا کہ اندر داخل ہو کر اسے دیکھوں ، لیکن مجھے عمر کی غیرت یاد آئی ( اور اس لیے اندر داخل نہیں ہوا ) اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے روتے ہوئے کہا میرے ماں باپ آپ پر فداہوں ، یارسول اللہ ! کیا میں آپ سے غیرت کروں گا ۔

    مذکورہ خاتون رمیصاء نامی حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ ہیں۔ یہ لفظ رمص سے ہے۔ رمص آنکھ کے میل کوکہتے ہیں، ان کی آنکھوں میں میل رہتاتھا، اس لیے وہ اس لقب سے مشہور تھیں۔


    حدیث نمبر : 3680
    حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا الليث، قال حدثني عقيل، عن ابن شهاب، قال أخبرني سعيد بن المسيب، أن أبا هريرة ـ رضى الله عنه ـ قال بينا نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ قال ‏"‏ بينا أنا نائم رأيتني في الجنة، فإذا امرأة تتوضأ إلى جانب قصر، فقلت لمن هذا القصر قالوا لعمر فذكرت غيرته فوليت مدبرا ‏"‏‏.‏ فبكى وقال أعليك أغار يا رسول الله
    ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ، کہا ہم کو لیث نے خبر دی ، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے سعید بن مسیب نے خبردی اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میںجنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا ۔ پھر مجھے ان کی غیرت وحمیت یاد آئی اور میں وہیں سے لوٹ آیا ۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ رودیئے اور عرض کیا یار سول اللہ ! کیا میں آپ پر بھی غیرت کروں گا ؟


    حدیث نمبر : 3681
    حدثني محمد بن الصلت أبو جعفر الكوفي، حدثنا ابن المبارك، عن يونس، عن الزهري، قال أخبرني حمزة، عن أبيه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ بينا أنا نائم شربت ـ يعني اللبن ـ حتى أنظر إلى الري يجري في ظفري أو في أظفاري، ثم ناولت عمر ‏"‏‏.‏ فقالوا فما أولته قال ‏"‏ العلم ‏"‏‏.‏
    مجھ سے ابوجعفر محمد بن صلت کوفی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا ، ان سے یونس نے ، ان سے زہری نے بیان کیا ، کہا مجھ کو حمزہ نے خبردی اور انہیں ان کے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ) نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے خواب میں دودھ پیا ، اتنا کہ میں دودھ کی سیرابی و آسودگی دیکھنے لگا جو میرے ناخن یا ناخنوں پربہ رہی ہے ، پھر میں نے پیالہ عمر رضی اللہ عنہ کو دے دیا ، صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! اس خواب کی تعبیر کیا ہے آپ نے فرمایا کہ اس کی تعبیر علم ہے ۔


    حدیث نمبر : 3682
    حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا محمد بن بشر، حدثنا عبيد الله، قال حدثني أبو بكر بن سالم، عن سالم، عن عبد الله بن عمر ـ رضى الله عنهما ـ أن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ أريت في المنام أني أنزع بدلو بكرة على قليب، فجاء أبو بكر فنزع ذنوبا أو ذنوبين نزعا ضعيفا، والله يغفر له، ثم جاء عمر بن الخطاب فاستحالت غربا، فلم أر عبقريا يفري فريه حتى روي الناس وضربوا بعطن ‏"‏‏.‏ قال ابن جبير العبقري عتاق الزرابي‏.‏ وقال يحيى الزرابي الطنافس لها خمل رقيق ‏{‏مبثوثة‏}‏ كثيرة‏.‏
    ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ، کہاہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبید اللہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابوبکر بن سالم نے بیان کیا ، ان سے سالم نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک کنویں سے ایک اچھا بڑا ڈول کھینچ رہا ہوں ، جس پر لکڑی کا چرخ لگا ہوا ہے ، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے بھی ایک یا دو ڈول کھینچے مگر کمزوری کے ساتھ اور اللہ ان کی مغفرت کرے ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے اور ان کے ہاتھ میں وہ ڈول ایک بہت بڑے ڈول کی صورت اختیار کرگیا ۔ میں نے ان جیسا مضبوط اور باعظمت شخص نہیں دیکھا جو اتنی مضبوطی کے ساتھ کام کرسکتاہو ۔ انہوں نے اتنا کھینچا کہ لوگ سیراب ہوگئے اور اپنے اونٹوں کو پلاکر ان کے ٹھکانوں پر لے گئے ۔ ابن جبیر نے کہا کہ عبقری کا معنی عمدہ اور زرابی اور عبقری سردار کو بھی کہتے ہیں ( حدیث میں عبقری سے یہی مراد ہے ) یحییٰ بن زیاد فری نے کہا ، زرابی ان بچھونوں کوکہتے ہیں جن کے حاشیے باریک ، پھیلے ہوئے بہت کثرت سے ہوتے ہیں ۔

    یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جب حدیث میں لفظ بکرۃ بفتح با اور کاف ہو یعنی وہ گول لکڑی جس سے ڈول لٹکادیتے ہیں ، اگر بکرۃ سکون کاف کے ساتھ ہوتو ترجمہ یوں ہوگا، وہ ڈول جس سے جو ان اونٹنی کو پانی پلاتے ہیں۔


    حدیث نمبر : 3683
    حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا يعقوب بن إبراهيم، قال حدثني أبي، عن صالح، عن ابن شهاب، أخبرني عبد الحميد، أن محمد بن سعد، أخبره أن أباه قال ح حدثني عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن صالح، عن ابن شهاب، عن عبد الحميد بن عبد الرحمن بن زيد، عن محمد بن سعد بن أبي وقاص، عن أبيه، قال استأذن عمر بن الخطاب على رسول الله صلى الله عليه وسلم، وعنده نسوة من قريش يكلمنه ويستكثرنه، عالية أصواتهن على صوته فلما استأذن عمر بن الخطاب قمن فبادرن الحجاب فأذن له رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخل عمر ورسول الله صلى الله عليه وسلم يضحك، فقال عمر أضحك الله سنك يا رسول الله‏.‏ فقال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ عجبت من هؤلاء اللاتي كن عندي فلما سمعن صوتك ابتدرن الحجاب ‏"‏‏.‏ فقال عمر فأنت أحق أن يهبن يا رسول الله‏.‏ ثم قال عمر يا عدوات أنفسهن، أتهبنني ولا تهبن رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلن نعم، أنت أفظ وأغلظ من رسول الله صلى الله عليه وسلم‏.‏ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إيها يا ابن الخطاب والذي نفسي بيده ما لقيك الشيطان سالكا فجا قط إلا سلك فجا غير فجك ‏"‏‏.‏
    ہم سے علی بن عبداللہ بن مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ان سے صالح نے ، ان سے ابن شہاب نے ، کہا مجھ کو عبدالحمید بن عبدالرحمن نے خبردی ، انہیں محمد بن سعد بن ابی وقاص نے خبردی اور ان سے ان کے والد ( حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) نے بیان کیا ( دوسری سند ) اور مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہاہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے صالح نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عبدالحمید بن عبدالرحمن بن زید نے ، ان سے محمد بن سعدبن ابی وقاص نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت چاہی ۔ اس وقت آپ کے پاس قریش کی چند عورتیں ( امہات المومین میں سے ) بیٹھی باتیں کررہی تھیں اور آپ کی آوازپر اپنی آواز اونچی کرتے ہوئے آپ سے نان ونفقہ میں زیادتی کا مطالبہ کررہی تھیں ، جوں ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی تو وہ تمام کھڑی ہوکر پردے کے پیچھے جلدی سے بھاگ کھڑی ہوئیں ۔ آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی اوروہ داخل ہوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسکرارہے تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے ۔ آپ نے فرمایا : مجھے ان عورتوں پرہنسی آرہی ہے جو ابھی میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں ، لیکن تمہاری آواز سنتے ہی سب پردے کے پیچھے بھاگ گئیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ڈرناتو انہیں آپ سے چاہیے تھا ۔ پھرانہوں نے ( عورتوں سے ) کہا اے اپنی جانوں کی دشمنو ! تم مجھ سے تو ڈرتی ہو اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتیں ، عورتوں نے کہاکہ ہاں ، آپ ٹھیک کہتے ہیں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں آپ کہیں زیادہ سخت ہیں ۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابن خطاب ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اگر شیطان تمہیں کسی راستے پر چلتا دیکھتا ہے تو اسے چھوڑ کر وہ کسی دوسرے راستے پر چل پڑتا ہے ۔

    آپ نے دعا فرمائی تھی یا اللہ ! اسلام کو عمر یا پھر ابوجہل کے اسلام سے عزت عطاکر۔ اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حق میں آپ کی دعا قبول فرمائی۔ جن کے مسلمان ہونے پر مسلمان کعبہ میں اعلانیہ نماز پڑھنے لگے اور تبلیغ اسلام کے لیے راستہ کھل گیا۔ ان کے اسلام لانے کا واقعہ مشہور ہے۔


    حدیث نمبر : 3684
    حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، عن إسماعيل، حدثنا قيس، قال قال عبد الله ما زلنا أعزة منذ أسلم عمر‏.‏
    ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے قیس نے بیان کیاکہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے بعد پھر ہمیں ہمیشہ عزت حاصل رہی ۔


    حدیث نمبر : 3685
    حدثنا عبدان، أخبرنا عبد الله، حدثنا عمر بن سعيد، عن ابن أبي مليكة، أنه سمع ابن عباس، يقول وضع عمر على سريره، فتكنفه الناس يدعون ويصلون قبل أن يرفع، وأنا فيهم، فلم يرعني إلا رجل آخذ منكبي، فإذا علي فترحم على عمر، وقال ما خلفت أحدا أحب إلى أن ألقى الله بمثل عمله منك، وايم الله، إن كنت لأظن أن يجعلك الله مع صاحبيك، وحسبت أني كنت كثيرا أسمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول ذهبت أنا وأبو بكر وعمر، ودخلت أنا وأبو بكر وعمر، وخرجت أنا وأبو بكر وعمر‏.‏
    ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہاہم کو عبداللہ نے خبردی ، کہا ہم سے عمر بن سعید نے بیان کیا ، ان سے ابن ابی ملیکہ اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ جب عمر رضی اللہ عنہ کو ( شہادت کے بعد ) ان کی چارپائی پررکھا گیا تو تمام لوگوں نے نعش مبارک کو گھیر لیا اور ان کے لیے ( خدا سے ) دعا اور مغفرت طلب کرنے لگے ، نعش ابھی اٹھائی نہیں گئی تھی ، میں بھی وہیں موجود تھا ۔ اسی حالت میں اچانک ایک صاحب نے میرا شانہ پکڑلیا ، میں نے دیکھا تو وہ علی رضی اللہ عنہ تھے ، پھر انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے لیے دعاءرحمت کی اور ( ان کی نعش کو مخاطب کرکے ) کہا ، آپ نے اپنے بعد کسی بھی شخص کو نہیں چھوڑا کہ جسے دیکھ کر مجھے یہ تمناہوتی کہ اس کے عمل جیسا عمل کرتے ہوئے میں اللہ سے جاملوں اور خدا کی قسم مجھے تو ( پہلے سے ) یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ہی رکھے گا ، میرا یہ یقین اس وجہ سے تھا کہ میں نے اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ الفاظ سنے تھے کہ میں ، ابوبکر اور عمر گئے ۔ میں ، ابوبکر اور عمر داخل ہوئے ۔ میں ، ابوبکر اور عمر باہر آئے ۔


    حدیث نمبر : 3686
    حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا سعيد، وقال، لي خليفة حدثنا محمد بن سواء، وكهمس بن المنهال، قالا حدثنا سعيد، عن قتادة، عن أنس بن مالك ـ رضى الله عنه ـ قال صعد النبي صلى الله عليه وسلم إلى أحد ومعه أبو بكر وعمر وعثمان فرجف بهم، فضربه برجله، قال ‏"‏ اثبت أحد فما عليك إلا نبي أو صديق أو شهيدان ‏"‏‏.‏
    ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہاہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا ، ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اور مجھ سے خلیفہ نے بیان کیا ، ان سے محمد بن سواءاور کہمس بن منہال نے بیان کیا ، ان سے سعید نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے تو آپ کے ساتھ ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی تھے ، پہاڑ لرزنے لگا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاوں سے اسے مارا اور فرمایا : احد ! ٹھہرارہ کہ تجھ پر ایک نبی ، ایک صدیق اور دو شہید ہی تو ہیں ۔

    خلفاء کی فضیلت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور پیشگی فرمایا: شہیدوں سے حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مراد ہیں۔


    حدیث نمبر : 3687
    حدثنا يحيى بن سليمان، قال حدثني ابن وهب، قال حدثني عمر، هو ابن محمد أن زيد بن أسلم، حدثه عن أبيه، قال سألني ابن عمر عن بعض، شأنه ـ يعني عمر ـ فأخبرته‏.‏ فقال، ما رأيت أحدا قط بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم من حين قبض كان أجد وأجود حتى انتهى من عمر بن الخطاب‏.‏
    ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عمر بن محمد نے بیان کیا ، ان سے زید بن اسلم نے بیان کیا اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے اپنے والد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعض حالات پوچھے ، جو میں نے انہیں بتادیئے تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں نے کسی شخص کودین میں اتنی زیادہ کوشش کرنے والا اور اتنا زیادہ سخی نہیں دیکھا اور یہ خصائل حضرت عمر بن خطاب پر ختم ہوگئے ۔

    مراد یہ ہے کہ اپنے عہد خلافت میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بہت بڑے دلاور، بہت بڑے سخی اور اسلام کے عظیم ستون تھے، منقبت کا جہاں تک تعلق ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مقام جملہ صحابہ سے اعلیٰ و ارفع ہے۔


    حدیث نمبر : 3688
    حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن ثابت، عن أنس ـ رضى الله عنه ـ أن رجلا، سأل النبي صلى الله عليه وسلم عن الساعة، فقال متى الساعة قال ‏"‏ وماذا أعددت لها ‏"‏‏.‏ قال لا شىء إلا أني أحب الله ورسوله صلى الله عليه وسلم‏.‏ فقال ‏"‏ أنت مع من أحببت ‏"‏‏.‏ قال أنس فما فرحنا بشىء فرحنا بقول النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أنت مع من أحببت ‏"‏‏.‏ قال أنس فأنا أحب النبي صلى الله عليه وسلم وأبا بكر وعمر، وأرجو أن أكون معهم بحبي إياهم، وإن لم أعمل بمثل أعمالهم‏.‏
    ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہاہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ثابت نے اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صاحب ( ذوالخویصرہ یا ابوموسیٰ ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے بارے میں پوچھا کہ قیامت کب قائم ہوگی ؟ اس پر آپ نے فرمایا : تم نے قیامت کے لیے تیاری کیا کی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کچھ بھی نہیں ، سوا اس کے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتاہوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تمہارا حشر بھی انہیں کے ساتھ ہوگا جن سے تمہیں محبت ہے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں کبھی اتنی خوشی کسی بات سے بھی نہیں ہوئی جتنی آپ کی یہ حدیث سن کر ہوئی کہ تمہارا حشر انہیں کے ساتھ ہوگا جن سے تمہیں محبت ہے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما سے محبت رکھتاہوں اور ان سے اپنی اس محبت کی وجہ سے امید رکھتاہوں کہ میرا حشر انہیں کے ساتھ ہوگا ، اگر چہ میں ان جیسے عمل نہ کرسکا ۔

    حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ مترجم وناشر کی بھی یہی دعا ہے۔ اور مصحح کی بھی۔


    حدیث نمبر : 3689
    حدثنا يحيى بن قزعة، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن أبيه، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لقد كان فيما قبلكم من الأمم محدثون، فإن يك في أمتي أحد فإنه عمر ‏"‏‏
    ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سے پہلی امتوں میں محدث ہواکرتے تھے ، اور اگر میری امت میں کوئی ایسا شخص ہے تو وہ عمر ہیں ۔ زکریا بن زائدہ نے اپنی روایت میں سعد سے یہ بڑھایا ہے کہ ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سے پہلے بنی اسرائیل کی امتوں میںکچھ لوگ ایسے ہواکرتے تھے کہ نبی نہیں ہوتے تھے اور اس کے باوجود فرشتے ان سے کلام کیاکرتے تھے اور اگر میری امت میںکوئی ایسا شخص ہوسکتا ہے تو وہ حضرت عمر ہیں ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پڑھا من نبی ولا محدث

    تشریح : محدث وہ جس پر خدا کی طرف سے الہام ہو اور حق اس کی زبان پر جاری ہوجائے یا فرشتے اس سے بات کریں یا وہ جس کی رائے بالکل صحیح ثابت ہو، محدث وہ بھی ہوسکتا ہے جو صاحب کشف ہو جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت میں حضرت یوحنا حواری گزرے ہیں جن کے مکاشفات مشہور ہیں، یقینا حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسے ہی لوگوں میں سے ہیں ۔ روایت کے آخر میں مذکور ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سورہ حج کی آیت ہذا کو یوں پڑتھے تھے: وماارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی ولا محدث الخ


    حدیث نمبر : 3690
    حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، حدثنا عقيل، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، وأبي، سلمة بن عبد الرحمن قالا سمعنا أبا هريرة ـ رضى الله عنه ـ يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بينما راع في غنمه عدا الذئب فأخذ منها شاة، فطلبها حتى استنقذها، فالتفت إليه الذئب فقال له من لها يوم السبع، ليس لها راع غيري‏"‏‏.‏ فقال الناس سبحان الله‏.‏ فقال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فإني أومن به وأبو بكر وعمر ‏"‏ وما ثم أبو بكر وعمر‏
    ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عقیل نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے بیان کیا کہ ہم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک چرواہا اپنی بکریاں چرا رہاتھا کہ ایک بھیڑئےے نے اس کی ایک بکری پکڑلی ۔ چرواہے نے اس کا پیچھا کیا اور بکری کو اس سے چھڑا لیا ۔ پھر بھیڑیا اس کی طرف متوجہ ہوکر بولا : درندوں کے دن اس کی حفاظت کرنے والا کون ہوگا ؟ جب میرے سوا اس کا کوئی چرواہا نہ ہوگا ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم اس پر بول اٹھے : سبحان اللہ ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس واقعہ پر ایمان لایا اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی ۔ حالانکہ وہاں ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما موجود نہیں تھے ۔

    یہ حدیث اوپر گزرچکی ہے۔ اس میں گائے کا بھی ذکر تھا، ا س سے بھی حضرات شیخین کی فضیلت ثابت ہوئی۔


    حدیث نمبر : 3691
    حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال أخبرني أبو أمامة بن سهل بن حنيف، عن أبي سعيد الخدري ـ رضى الله عنه ـ قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ‏"‏ بينا أنا نائم رأيت الناس عرضوا على وعليهم قمص، فمنها ما يبلغ الثدى، ومنها ما يبلغ دون ذلك، وعرض على عمر وعليه قميص اجتره ‏"‏‏.‏ قالوا فما أولته يا رسول الله قال ‏"‏ الدين ‏"‏‏.‏
    ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، مجھ کو ابوامامہ بن سہل بن حنیف نے خبردی اور ان سے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو قمیص پہنے ہوئے تھے ان میں سے بعض کی قمیص صرف سینے تک تھی اور بعض کی اس سے بھی چھوٹی اور میرے سامنے عمر پیش کئے گئے تو وہ اتنی بڑی قمیص پہنے ہوئے تھے کہ چلتے ہوئے گھسٹتی تھی ، صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ نے اس کی تعبیر کیالی ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین مراد ہے ۔

    معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دین وایمان بہت قوی تھا۔ اس سے ان کی فضیلت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پرلازم نہیں آتی کیونکہ اس حدیث میں ان کا ذکر نہیں ہے۔


    حدیث نمبر : 3692
    حدثنا الصلت بن محمد، حدثنا إسماعيل بن إبراهيم، حدثنا أيوب، عن ابن أبي مليكة، عن المسور بن مخرمة، قال لما طعن عمر جعل يألم، فقال له ابن عباس ـ وكأنه يجزعه ـ يا أمير المؤمنين، ولئن كان ذاك لقد صحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم فأحسنت صحبته، ثم فارقته وهو عنك راض، ثم صحبت أبا بكر فأحسنت صحبته، ثم فارقته وهو عنك راض، ثم صحبت صحبتهم فأحسنت صحبتهم، ولئن فارقتهم لتفارقنهم وهم عنك راضون‏.‏ قال أما ما ذكرت من صحبة رسول الله صلى الله عليه وسلم ورضاه، فإنما ذاك من من الله تعالى من به على، وأما ما ذكرت من صحبة أبي بكر ورضاه، فإنما ذاك من من الله جل ذكره من به على، وأما ما ترى من جزعي، فهو من أجلك وأجل أصحابك، والله لو أن لي طلاع الأرض ذهبا لافتديت به من عذاب الله عز وجل قبل أن أراه‏
    ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہاہم سے ایوب نے بیان کیا ، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے مسور بن مخرمہ نے بیان کیا کہ جب حضرت عمر زخمی کردیئے گئے تو آپ نے بڑی بے چینی کا اظہار کیا ۔ اس موقع پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ سے تسلی کے طورپر کہا کہ اے امیر المومنین ! آپ اس درجہ گھبراکیوں رہے ہیں ۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا پورا حق ادا کیا اور پھر جب آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے خوش اور راضی تھے ، اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ کی صحبت اٹھائی اور ان کی صحبت کا بھی آپ نے پورا حق ادا کیا اور جب جدا ہوئے تو وہ بھی آپ سے راضی اور خوش تھے ۔ آخر میں مسلمانوں کی صحبت آپ کو حاصل رہی ۔ ان کی صحبت کا بھی آپ نے پورا حق ادا کیااور اگر آپ ان سے جدا ہوئے تو اس میںکوئی شبہ نہیں کہ انہیں بھی آپ اپنے سے خوش اور راضی ہی چھوڑیں گے ۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ابن عباس ! تم نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا وخوشی کا ذکر کیا ہے تو یقینا یہ صرف اللہ تعالیٰ کا ایک فضل اور احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا ہے ۔ اسی طرح جو تم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صحبت اور ان کی خوشی کا ذکر کیا ہے تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کا مجھ پر فضل و احسان تھا ۔ لیکن جو گھبراہٹ اور پریشانی مجھ پر تم طاری دیکھ رہے ہو وہ تمہاری وجہ سے اور تمہارے ساتھیوں کی فکر کی وجہ سے ہے ۔ اور خدا کی قسم ، اگر میرے پاس زمین بھر سونا ہوتا تو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا سامنا کرنے سے پہلے اس کا فدیہ دے کر اس سے نجات کی کوشش کرتا ، حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ایوب نے بیان کیا ، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ میں عمر رضی اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ پھر آخر تک یہی حدیث بیان کی ۔

    تشریح : ابن ابی ملیکہ کے قول کو اسماعیلی نے وصل کیا، اس سند کے بیان کرنے سے یہ غرض ہے کہ ابن ابی ملیکہ نے اپنے اورا بن عباس رضی اللہ عنہما کے درمیان کبھی مسور کا ذکر کیا ہے جیسے اگلی روایت میں ہے کبھی نہیںکیا جیسے اس روایت میں ہے، شاید یہ لوگوں کی فکر ہے دوسرے اپنی نجات کی فکر ، سبحان اللہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایمان۔ اتنی نیکیاں ہونے پر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قطعی بشارت رکھنے پر کہ تم بہشتی ہو خدا کا ڈر ان کے دل میں اس قدر تھا۔ کیونکہ خداوند کریم کی ذات بے پروا اور مستغنی ہے ۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سے عادل اور منصف اور حق پرست اور متبع شرع اور صحابی اور خلیفۃ الرسول کو خدا کا اتنا ڈر ہوتو وائے بر حال ہمارے کہ سر سے پیر تک گناہوں میں گرفتارہیں توہم کو کتنا ڈرہونا چاہیے۔ ( وحیدی )


    حدیث نمبر : 3693
    حدثنا يوسف بن موسى، حدثنا أبو أسامة، قال حدثني عثمان بن غياث، حدثنا أبو عثمان النهدي، عن أبي موسى ـ رضى الله عنه ـ قال كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم في حائط من حيطان المدينة، فجاء رجل فاستفتح، فقال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ افتح له وبشره بالجنة ‏"‏‏.‏ ففتحت له، فإذا أبو بكر، فبشرته بما قال النبي صلى الله عليه وسلم فحمد الله، ثم جاء رجل فاستفتح، فقال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ افتح له وبشره بالجنة ‏"‏‏.‏ ففتحت له، فإذا هو عمر، فأخبرته بما قال النبي صلى الله عليه وسلم فحمد الله، ثم استفتح رجل، فقال لي ‏"‏ افتح له وبشره بالجنة على بلوى تصيبه ‏"‏‏.‏ فإذا عثمان، فأخبرته بما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فحمد الله ثم قال الله المستعان‏.‏
    ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عثمان بن غیاث نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابوعثمان نہدی نے بیان کیا ، اور ان سے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مدینہ کے ایک باغ ( بئر اریس ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ ایک صاحب نے آکر دروازہ کھلوایا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے لیے دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو ، میں نے دروازہ کھولا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ۔ میں نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانے کے مطابق جنت کی خوشخبری سنائی تو انہوں نے اس پر اللہ کی حمد کی ، پھر ایک اور صاحب آئے اور دروازہ کھلوایا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر بھی یہی فرمایا کہ دروازہ ان کے لیے کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سنادو ، میں نے دروازہ کھولا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے ، انہیں بھی جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی اطلاع سنائی تو انہوں نے بھی اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی ۔ پھر ایک تیسرے اور صاحب نے دروازہ کھلوایا ۔ ان کے لیے بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سنادو ان مصائب اور آزمائشوں کے بعد جن سے انہیں ( دنیا میں ) واسطہ پڑے گا ۔ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے ۔ جب میں نے ان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی اطلاع دی تو انہوں نے اللہ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی مدد کرنے والا ہے ۔ ( یہ حدیث پہلے بھی گزرچکی ہے )


    حدیث نمبر : 3694
    حدثنا يحيى بن سليمان، قال حدثني ابن وهب، قال أخبرني حيوة، قال حدثني أبو عقيل، زهرة بن معبد أنه سمع جده عبد الله بن هشام، قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم وهو آخذ بيد عمر بن الخطاب‏.ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، کہاکہ مجھے حیوہ بن شریح نے خبردی ، کہا کہ مجھ سے ابوعقیل زہرہ بن معبد نے بیان کیااور انہوں نے اپنے دادا حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے سنا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ ہم ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ آپ اس وقت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے تھے ۔

    پوری حدیث آگے باب الایمان والنذور میں مذکور ہوگی۔ اس سے آپ کی بہت عنایت اور محبت عمر رضی اللہ عنہ پر معلوم ہوتی ہے۔

 

 

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •