Results 1 to 1 of 1
  1. #1

    Post Arzo hai kuch isi chashmay tamasha ki mujhy

    Follow us on Social Media







    وں تو پاکستان بنے ہوے 62 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، اگر ہم 62 سال پہلے جایں اور تاریخ کا مطلع کریں تو تاریخ کے ان جھروکوں میں ہم کو یہ بات نظر اے گی کے جہاں دیگر
    صوبوں کے مسلمانون کے ساتھ ساتھ پنجاب کے مسلمانوں نے بھی ایک فعال اور
    مضبوط کردار ادا کیا اور پاکستان کی آزادی کو تکمیل تک پوھنچایا. انگیرزوں
    کے غضب و ظلم کے سامنے پنجاب کی عوام سراپا اتیجاج آزادی کی جنگ میں
    آزادی یا شہادت کے جذبے سے سرشار کھڑی تھی .لکن اس وقت کے فرنگیوں کے غلام
    اوروفاداروں نے شاہ سے بڑھ کر شاہ کے وفا دار ہونے کی مثال قائم کرتے ہوے
    آزادی کے پروانوں اور متوالوں کی مخبریاں کریںاور مواوزے میں سونا اگلتی
    ہوئی زمینیں وصول کریں.ان تمام طاغوتی قوتوں کی لاکھ کوششوں باوجود الله
    تعالیٰ کی مدد برصغیر کی محکوم کو مظلوم مسلمانوں کے ساتھ تھی اور مسلمانوں
    کے صبرو استقامت کے ثمر میں الله تعالیٰ مسلمانوں کی ایک آزادی جیسی نعمت
    پاکستان سے نوازا جس کو آج بھی اسکے چاہن چاہنے والے اپنی جان سے بھی زیادہ
    محبوب رکھتے ہیں. فرنگیوں اور ظالمانہ قوتوں نے ہار نہ مانتے ہوے بھی
    پاکستان کے خلاف سرد جنگ جاری رکھتے ہوے سازشوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ
    شروع کردیا جو اجج تک جاری و ساری ہے .پاکستان و پنجاب کو انگیرزوں نے جاتے
    جاتے اپنے انہی دوستوں اور وفاداروں کے حوالے کردیا جو کے پاکستان
    پربطورانگریزوں کے نائب حکمرانی کریں اور کرتے راہیں.
    یہ انگریزوں کے وفادار آج بھی ملک میں پاے جاتے ہیں جو کے آج بارے فخر سے اپنے آپ کو
    جاگیردار و وڈیرہ و سردار کہتے ہیں جو کے بدقسمتی سے ہمارے وطن پر
    انگیرزوں کی طرف سے بحثیت حاکم مسلط کے گئے ہیں .پنجاب میں بوہت سے
    جاگیردار لا لا کر انگریزوں نے آباد کردیے اور اپنے مقاصد سے اگاہ کردیا
    اور اسکے کے حصّول کے لئے ذمداریاں سونپ دیں جو نسل در نسل سر
    انجام دی جائیں گیں .ان وڈیروں اور جاگیرداروں نے پنجاب کی عوام پر بہت
    ظلم و ستم کۓ ہیں زیادتیوں کی نی نی داستانیں رقم کری ہیں کبھی عوام پر
    مہنگائی کا عذاب تو کبھی دہشتگردی کا دیو کبھی لوڈشیڈنگ کی قیامت سے پنجاب
    کی عوام کی زندگیاں عاجز کردی ہیں .کبھی اپنی آل ولاد کو کسی غریب طالب
    علم کا حق مار کر جامہ میں داخلہ دلوادیا تو کبھی لسانی بنیاد پر دوسرے
    صوبوں کی عوام سے لڑادیا گیا کبھی گناہوں کو چھپانے کۓ لئے علی عدلیہ پر شب
    و خون مرگیا .پھر پنجاب کو عوام کو دھوکہ دے کر اپنی چکنی چپڑی باتوں میں
    لا کر پھر اعوانوں میں منتخب ہوے لکن پھر ووہی طریقہ نقاب اس بار کچھ
    جاگیردار جعلی اسناد لے کر اعوانوں میں اے تو کوئی اپنے عزیز و اقارب سے
    اپنے نام پر امتحان دلاتا ہوا پایا جارہا ہے تو کبھی کوئی نشہ آور مشروبات
    لاتا ہوا پایا جارہا ہو تو کبھی کوئی کسی پولیس اہلکار
    کو زد و قوب کرتا ہوا پایا گیا تو کبھی کوئی کریڈٹ کارڈ چوری کرتا ہوا نظر
    پایا گیا تو کبھی کوئی اپنی ہی جماعت کی خاتوں کارکن کۓ ساتھ زیادتی کا
    مرتکب ہوا.یہ ساری حرکت پنجاب حکومت سے تعلق رکھنے والے افراد نے سرانجام
    دی ہیں
    جب کۓ اسی ملک کۓ سب سے اہم شہر کراچی میں ترقی و کامرانی کی مثالیں رقم
    کی جارہی ہیں جہاں پر نہ تو کسی جاگیردار وڈیرے و سرمایادار کی حاکمیت ہے
    بلکے اس شہر میں اسکے اپنے متواست طبقے کۓ پرہے لکھے لوگوں کو حاکم بنا کر
    اعوانوں میں بھیجا تو بلا کسی رنگ و نسل و زبان و مذہب کی تمیز کے ہر
    خاص و عام ہر امیر و غریب کی خدمات پر عمل پیرہ ہیں .جو ہر سخت موسم میں
    ہر تہوار میں ہر آفت میں عوام ک شانہ بشانہ کھڑے ہوکر انکی خدمت کرتے ہیں
    جو کۓ نہ صرف عوامی نمائندے کا فرض ہے بلکے انسانیت کا بھی اہم تقاضا ہے
    کۓ مشکل وقت میں دوسرے انسان کی مدد کی جائے اور خوشیوں و غمی میں اسکا
    ساتھ دیا جائے یہی اسلام اور انسانیت کا درس ہے اور جس ملک میں حکمران
    منتخب ہونے کۓ بعد عوام میں آتے ہی نہیں وہاں ایسے نمائندوں کا عوام کۓ
    ساتھ بیٹھنا اور کام کرنا ایک اچھی سیاسی تربیت کا عکاس ہے اور ساتھ ساتھ
    اس بات کی بھی تائید کرتا ہے کۓ اگر فرض کو عبادت کی طرح سمجھا جائے تو ہر
    جگہ کامیاب و کامرانی نصیب ہوتی ہے .یہی کراچی کی خوش قسمتی ہے کۓ یہاں کۓ
    رہنما قائدین و حاکمین اچھی سیاسی تربیت یافتہ ہیں اور اپنے اصولوں پر عمل
    پیرہ اور اپنی قیادت پر بھر پور بھروسہ کرنے والے ہیں جس کی وجہ سے قلیل
    عرصے میں کراچی کو دنیا کۓ بہترین شہروں کی صف میں لا کر کھڑا کردیا ہے
    اگر ایسی ہی قیادت پنجاب میں اجاےتو پنجاب کی کیا ہی پلٹ جائے جس کی عوام
    جاگیرداروں ک ظلم میں پس رہی ہے اس غریب کسان تک بھی انصاف کی رسائی ہوگی
    جو صرف چند ہزار کۓ قرضے کو چکنے کی خاطر اپنے پورے خاندان کۓ ہمرا
    جاگیردار کی قید و ظلم و تشدد کا نشانہ بنتا ہے . اگر اس طرز کی سیاست
    پاکستان میں شروع ہوجاے تو کوئی کلام نہیں کۓ پاکستان دنیا میں عظیم ممالک
    کی فہرست میں شامل ہونے میں ذرا سا بھی عرصہ لگے







 

 

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •